المیہ یہ ھوتا جا رھا ھے کہ جدید اعتدال پسندی کا وائرس آجکل زوروشور سے اپنا کام دکھا رھا ھے ھر کسی کا ایک ھی راگ ھے اور اسی میں دھن سارے معتدل مزاج روز بروز دوسروں کے ساتھ اپنی نام نھاد معتدل مزاجی چمٹانا چاھتے ھیں اور وہ معتدل مزاجی یہ ھے کہ جناب کسی کافر کو کافر نہ کہو ، کسی گمراہ کو گمراہ نہ کہو ، سب کی چلنے دو ، رائے کا احترام کرو ، اپنی بات کرو اور عوام پر چھوڑ دو وہ چاھے جو فیصلہ کریں ۔۔۔
آج کے دور کے عوام کالانعام نھیں رھے بلکہ کالاعلام ھوتے جا رھے ھیں کہ ان کو فقھا محدثین کے ساتھ اختلاف میں حکم بنایا جا رھا ھے ۔۔۔۔
علم والوں سے کہو اپنے نشیمن میں رھیں
اس دور کا ھر شخص فقھا کی طرح ھے
اس دور کا ھر شخص فقھا کی طرح ھے



No comments:
Post a Comment